Brailvi Books

ابلق گھوڑے سوار
25 - 46
مدرَسے یا دیگر دینی کاموں کیلئے کھال لینا اور غریبوں کو محروم کر دینا کیسا ہے؟
جواب: اگر واقِعی کوئی ایسا غریبمُسْتَحِق آدَمی ہے جس کا گزارہ اُسی کھال یا زکوٰۃ و فِطرہ پر موقوف ہے تو اب اُس کو ملنے والے اِن عطِیّات کی اپنے ادارے کیلئے ترکیب کر کے اُس غریب کو محروم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔(اور اگر ان غریبوں کا گزارہ کھال وغیرہ پر موقوف نہ ہو تو کھال کا مالِک جس مَصرف میں چاہے دے سکتا ہے مَثَلاً دینی مدرسے کو دیدے)میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں : اگر کچھ لوگ اپنے یہاں کی کھالیں حاجت مند یتیموں ، بیو اؤں ، مسکینوں کو دیناچاہیں کہ ان کی صورتِ حاجت روائی یہی ہو ، اُسے کوئی واعِظ ( یعنی وعظ کہنے والا) یا مدرَسے والا روک کر مدرَسے کیلئے لے لے تو یہ اُس کا ظلم ہو گا۔وَاللہُ تَعالٰی اَعلَم ۔
					(مُلَخَّص از فتاوٰی رضویہ ج ۲۰ ص ۵۰۱)
کھالوں کیلئے بے جا ضِد مت کیجئے
سُوال: اگر کوئی شخص اہلسنَّت کے کسی مدرَسے یاکسی غریب مسلمان کو کھال دینے کا وعدہ کر چکاہو اُس کو بَاِصرار اپنے اِدارے مثَلاً دعوتِ اسلامی کیلئے کھال دینے پر آمادہ کرنا کیسا؟