Brailvi Books

ابلق گھوڑے سوار
20 - 46
کرناکوئی غَلط کام ہے ۔ بس اِس طرح کے واقِعات بُزُرگوں کے غلبۂ حال پر مَبنی ہوتے ہیں۔ ورنہ مسئلہ یہی ہے کہ اپنے ہاتھ سے ذَبْح کرنا سنّت ہے۔
بکری چُھری کی طرف دیکھ رہی تھی
	سرکارِ ابد قرار، شافِعِ روزِ شمار،  بِاِذن پَرْوَرْدَگار دوعالم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک آدمی کے قریب سے گزرے، وہ بکری کی گردن پر پاؤں رکھ کر چُھری تیز کر رہا تھااور بکری اس کی طرف دیکھ رہی تھی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے ارشاد فرمایا:’’کیا تم پہلے ایسا نہیں کر سکتے تھے؟ کیا تم اسے کئی موتیں مارنا چاہتے ہو؟ اسے لٹانے سے پہلے اپنی چُھری تیز کیوں نہ کر لی؟‘‘(اَلْمُستَدرَک لِلحاکم ج۵ ص۳۲۷ حدیث ۷۶۳۷،اَلسّنَنُ الکُبری لِلْبَیْہَقِی ج۹ ص۷۱ ۴ حدیث۹۱۴۱،  مُلْتَقَطًا مِنَ الْحَدِیْثَین)
ذَبح کیلئے ٹانگ مت گھسیٹو!
 	امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو بکری کو ذَبْح کرنے کے لئے اسے ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹ رہا ہے، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا : تیرے لئے خرابی ہو، اسے موت کی طرف اچّھے انداز میں لے کر جا۔
			         (مُصَنَّفعَبْد الرَّزّاق ج۴ص ۳۷۶حدیث ۸۶۳۶)