مکّھی پر رَحم کرنا باعثِ مغفِرت ہو گیا
کسی نے خواب میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی کو دیکھ کر پوچھا:ما فَعلَ اللہُ بِکَ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ جواب دیا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بخش دیا،پوچھا: مغفِرت کا کیا سبب بنا؟ فرمایا: ایک مکّھی سیاہی(INK) پینے کے لئے میرے قلم پر بیٹھ گئی ،میں لکھنے سے رک گیا یہاں تک کہ وہ فارِغ ہو کر اُڑگئی۔ (لطائفُ الْمِنَن وَالْاَخلاق لِلشَّعرانی ص۳۰۵)
مکّھی کو مارنا کیسا؟
یادرہے! مکھیاں تنگ کرتی ہوں تو ان کو مارنا جائز ہے تاہم جب بھی حُصولِ نَفْعْ یا دَفعِ ضَرر(یعنی فائدہ حاصِل کرنے یا نقصان زائِل کرنے) کیلئے مکھی یا کسی بھی بے زَبان کی جان لینی پڑے تو اُس کو آسان سے آسان طریقے پر مارا جائے خوامخواہ اُس کو بار بار زندہ کُچلتے رہنے یاایک وار میں مار سکتے ہوں پھر بھی زخم کھا کر پڑے ہوئے پر بِلاضَرورت ضَربیں لگاتے رہنے یا اُس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس کو تڑپا نے وغیرہ سے گُریز کیا جائے۔ اکثر بچّے نادانی کے سبب چیونٹیوں کو کچلتے رہتے ہیں اُن کو اِس سے روکا جائے ۔ چیونٹی بہت کمزور ہوتی ہے چٹکی میں اٹھانے یا ہاتھ یا جھاڑو سے ہٹانے سے عُمُوماً زخمی ہوجاتی ہے، موقع کی مُناسَبَت سے اس پر پھونک مار کر بھی کام چلایاجا سکتا ہے۔