رَحْم فرمائے گا۔ (مُسندِ اِمام احمد بن حنبلج۵ ص ۳۰۴حدیث ۱۵۵۹۲)
جانور کو بھوکا پیاسا ذَبح نہ کریں
صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :قربانی سے پہلے اُسے چارا پانی دے دیں یعنی بھوکا پیاسا ذَبْح نہ کریں اور ایک کے سامنے دوسرے کو نہ ذَبْح کریں اور پہلے سے چُھری تیز کر لیں ایسا نہ ہو کہ جانور گرانے کے بعد اُس کے سامنے چُھری تیز کی جائے۔(بہار شریعت جلد ۳ ص ۳۵۲ ) یہاں ایک عجیب و غریب حکایت مُلاحَظہ ہو چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو جعفر عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکبر فرماتے ہیں : ایک بار میں نے ذَبْح کیلئے بکری لِٹائی اِتنے میں مشہور بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا ایّوب سَختِیانی(سَخْ۔تِ۔یانی) قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورانی اِدھر آ نکلے ، میں نے چُھری زمین پر ڈال دی اور گفتگو میں مشغول ہوا، دَریں اَثنا بکری نے دیوارکی جَڑ میں اپنے کُھروں سے ایک گڑھا کھودا اور پاؤں سے چُھری اُس میں دھکیل دی اور اُس پر مِٹّی ڈال دی! حضرتِ سیِّدُنا ایّوب سَختِیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورانی فرمانے لگے:ارے دیکھو تو سہی! بکری نے یہ کیا کیا! یہ دیکھ کر میں نے پُختہ عزْم کر لیا کہ اب کبھی بھی کسی جانور کو اپنے ہاتھ سے ذَبْح نہیں کروں گا۔
( حیاۃُ الحیوان ج۲ ص۶۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حکایت سے مَعَاذَ اللہ یہ مُراد نہیں کہ ذَبْح