Brailvi Books

ابلق گھوڑے سوار
13 - 46
 کے اَغَل بَغَل اور دو رگیں ہیں جن میں خون کی رَوانی ہے ان کو وَدَجَین (وَ۔دَ۔جَیْن)کہتے ہیں۔ ذَبْح کی چار رگوں میں سے تین کا کٹ جانا کافی ہے یعنی اس صورت میں بھی جانور حلال ہو جائے گا کہ اکثر کے لیے وُہی حکم ہے جوکُل کے لیے ہے اور اگر چاروں میں سے ہر ایک کا اکثر حصّہ کٹ جائے گا جب بھی حَلال ہو جائے گا اور اگر آدھی آدھی ہر رگ کٹ گئی اور آدھی باقی ہے تو حلال نہیں۔				   (بہارِ شریعت ج ۳ ص ۳۱۲،۳۱۳)
 قربانی کا طریقہ 
	( چاہے قربانی ہو یا ویسے ہی ذَبْح کرنا ہو)سنّت یہ چلی آ رہی ہے کہ ذَبْح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رُو ہوں ، ہمارے عَلاقے( یعنی پاک و ہند) میں قِبلہ مغرِب (WEST )  میں ہے، اس لئے سرِذَبیحہ (یعنی جانور کا سر)جُنُوب( SOUTH) کی طرف ہونا چاہئے تا کہ جانور بائیں (یعنی الٹے)پہلو لیٹا ہو،اور اس کی پیٹھ مشرِق(EAST) کی طرف ہو تا کہ اس کا مُنہ قبلے کی طرف ہو جائے، اور ذَبْح کرنے والا اپنا دایاں (یعنی سیدھا) پاؤں جانور کی گردن کے دائیں (یعنی سیدھے) حصّے(یعنی گردن کے قریب پہلو) پر رکھے اور ذَبْح کرے اور خود اپنا یا جانور کا مُنہ قبلے کی طرف کرنا ترک کیا تو مکروہ ہے ۔
				      ( فتاوٰی رضویہ ج ۲۰ص ۲۱۶،۲۱۷)