{10} بہتر یہ ہے کہ اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے کرے جبکہ اچّھی طرح ذَبْح کرنا جانتا ہو اوراگراچّھی طرح نہ جانتا ہوتو دوسرے کوذَبْح کرنے کا حکم دے مگر اِس صورت میں بہتر یہ ہے کہ وقتِ قربانی وہاں حاضِر ہو۔ ( عالمگیری ج۵ص۳۰۰)
{11} قربانی کی اوراُس کے پیٹ میں سے زندہ بچّہ نکلا تو اُسے بھی ذَبْح کر دے اور اُسے(یعنی بچّے کا گوشت) کھایا جا سکتا ہے اورمرا ہوا بچّہ ہوتو اُسے پھینک دے کہ مُردار ہے۔ (بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۸ )(قربانی ہو گئی اوراس مرے ہوئے بچّے کی ماں کا گوشت کھا سکتے ہیں )
{12} دوسرے سے ذَبْح کروایا اورخود اپنا ہاتھ بھی چُھری پر رکھ دیا کہ دونوں نے مل کرذَبْح کیا تو دونوں پر بِسْمِ اللہِکہنا واجِب ہے ۔ایک نے بھی جان بوجھ کر چھوڑ دی یایہ خیال کر کے چھوڑ دی کہ دوسرے نے کہہ لی مجھے کہنے کی کیا ضَرورت ، دونوں صُورَتوں میں جانو ر حلال نہ ہوا۔ (دُرِّمُختار ج ۹ ص ۵۵۱)
ذَبح میں کتنی رگیں کٹنی چاہئیں ؟
صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :جو رگیں ذَبْح میں کاٹی جاتی ہیں وہ چار ہیں۔ حُلْقُوم یہ وہ ہے جس میں سانس آتی جاتی ہے، مُری اس سے کھانا پانی اترتا ہے ان دونوں