اور کچھ گاؤں والے وہ ہيں جو(۱) اللہ اور قيا مت پر ايمان رکھتے ہيں(۲) اور جو خرچ کريں اسے اللہ کی نزديکيوں اور رسول سے دعائيں لينے کا ذريعہ سمجھيں(۳) ہاں ہاں وہ ان کے لئے باعث قرب ہے اللہ جلد انہيں اپنی رحمت ميں داخل کریگا(۴) بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔(پ۱۱ ، التوبۃ:۹۹ )
(۱) اس آيت ميں يا تو قبيلہ مزنيہ والے مراد ہيں ،يا اسلم و غفار اور جہينہ کے لوگ، اس سے معلوم ہوا کہ اگر اللہ کا کرم شاملِ حال ہو تو دور والے فيض پاليتے ہيں، ورنہ نزديک والے بھی محروم رہتے ہيں۔ ابوجہل مکہ ميں رہ کر کافر رہا اور يہ لوگ حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلمسے دور رہتے ہوئے بھی مومن، متقی، پرہيزگار ہوئے سبحان اللہ وہاں قربِ روحانی قبول ہے۔
(۲) اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ايک يہ کہ اللہ اور قيا مت کا ماننے والا