| آیاتِ قرآنی کے اَنوار |
وہی ہے جو حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم پر ايمان لائے کيونکہ دوسرے گنوار بھی اللہ تعالیٰ اور قيا مت کو مانتے تھے مگر انہيں منکرين ميں شامل کيا گيا ۔ دوسرے يہ کہ تمام اعمال پر ايمان مقدم ہے، ايمان جڑ ہے اور نيک اعمال شاخيں۔ خيا ل رہے کہ اللہ اور قيا مت کے ايمان ميں تمام ايمانيا ت داخل ہيں۔ لہٰذا قيا مت ،جنت، دوزخ، حشر، نشر سب ہی پر ايمان ضروری ہے جيسے ہم کہتے ہيں نماز ميں الحمد پڑھنا ضروری ہے يعنی پوری سورئہ فاتحہ۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ نيک اعمال ميں اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کی خوشنودی کی نيت کرنی شرک نہيں بلکہ قبوليت کی دليل ہے رب فرماتا ہے:وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ
صحابہ صدقات ميں حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کی رضا کی نيت کرتے تھے ۔اس ميں ايصالِ ثواب اور فاتحہ کا ثبوت ہے يعنی نيک عمل پر عرض کرنی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم ان کے متعلق دعا فرمائيں کہ مولیٰ قبول فرما کر ان لوگوں کو ثواب دے۔ فاتحہ ميں يہی کہا جاتا ہے کہ اس صدقے وغيرہ کا ثواب فلاں کو دے۔ اب بھی چاہیے کہ صدقہ لينے والا دينے والے کو دعا خير دے۔
(۴) اس آيت ميں ان کے صدقات کی قبوليت کی خبر ہے۔ معلوم ہوا کہ کوئی مسلمان صحابہ کے درجہ کو نہيں پہنچ سکتا۔ ان کی نيکيوں کی رسيد عرش اعظم سے آچکی ہماری کسی نيکی کی قبوليت کی خبر نہيں۔(تفسير نورالعرفان)