Brailvi Books

آئینہ عبرت
99 - 133
کہ کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ میں کس کے سامنے نماز میں کھڑا ہونے والا ہوں۔(1)

                 (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۰)
(۸) حضرت خوا جہ حسن بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
     آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ایک آدمی کو زور سے قہقہہ لگا کر ہنستے ہوئے دیکھا تو  آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے فرمایا کہ اے نوجوان! کیا تو پل صراط پر سے گزرچکا ہے؟ تو اس نے کہا کہ جی نہیں پھر پوچھا کہ کیا تجھے معلوم ہوچکا ہے کہ توجنتی ہے یا جہنمی ؟ تو اس نے جواب دیا کہ جی نہیں، تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ پھر یہ ہنسی کیسی اور کس بنا پر ہے؟ تو اس نوجوان پر یہ اثر ہوا کہ پھر وہ زندگی بھر کبھی نہیں ہنسا۔(2)

                     (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۰)
(۹) حضرت مالک بن دینار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ میں نے طواف کعبہ کے دوران ایک لڑکی کو دیکھا وہ کعبہ معظمہ کے پردوں سے چمٹی ہوئی رو رہی ہے کہ یارب!عزوجل بہت سی شہوتوں کی لذتیں جاتی رہیں اور ان کی سزائیں میرے سر پر رہ گئیں، اے میرے رب! کیا جہنم کے سوا مجھے سزا دینے کی اور کوئی دوسری صورت نہیں ہے! وہ لڑکی ساری رات صبح تک اپنی جگہ پر بیٹھی روتی اور دعائیں مانگتی رہی ۔حضرت مالک بن دینار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اس لڑکی کا حال اور اس کی دعاؤں کو سن کر اپنا سر پکڑلیا اور میری
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۲۷

2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۲۷
Flag Counter