Brailvi Books

آئینہ عبرت
98 - 133
عزوجل کا ایسا غلبہ تھا کہ قرآن مجید سننے کی تاب نہیں رکھتے تھے، اگر کبھی کوئی آیت سن لیتے تو چیخ مار کر بے ہوش ہوجاتے تھے اور کئی کئی دن بے ہوش رہا کرتے تھے۔ا یک دن قبیلہ خثعم کا ایک قاری آیا اور اس نے یہ آیت تلاوت کردی ۔
یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ  اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ﴿ۙ۸۵﴾وَّ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا ﴿ۘ۸۶﴾   ـ1ـ
(جس کا ترجمہ یہ ہے کہ)ہم قیامت کے دن متقی لوگوں کو مہمانوں کی صورت میں رحمٰن کے دربار میں جمع کریں گے اور مجرموں کو ہانک کر جہنم کی طرف پیاسا لے جائیں گے
     آیت سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں تو متقی لوگوں میں سے نہیں ہوں، بلکہ میں تو مجرمین میں سے ہوں۔ اے قاری! اس آیت کو پھر پڑھ چنانچہ قاری نے اس آیت کو دوبارہ پڑھا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زور سے ایک چیخ ماری اور فوراً  آپ کی وفات ہوگئی۔(2)(احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۰)
(۷) حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی نماز کے لیے وضو کرتے تو خوفِ خداوندی سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چہرہ پیلا پڑ جاتا تو گھر والوں نے پوچھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ کیا عادت ہوگئی ہے؟ کہ ہمیشہ وضو کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر ڈر جاتے ہیں کہ چہرہ  پیلا پڑ جاتا ہے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانپنے لگتے ہیں؟ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بنا کر اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے۔ (پ۱۶، مریم:۸۵،۸۶)

2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۲۷
(پ16,مریم آیت 86)
Flag Counter