ایک دن امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجر کی نماز پڑھ کر بے قراری کے ساتھ ہاتھ ملتے ہوئے مسجد سے باہر نکلے اور فرمایا کہ میں نے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جس حال میں دیکھا ہے آج میں کسی آدمی میں ان کی مشابہت کا اثر نہیں دیکھ رہا ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم رات بھر جاگ کر نمازوں میں قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ صبح کو ان کے بال پراگندہ اور چہرہ زرد دکھائی دیتا تھا۔ اور وہ ڈگمگاتے ہوئے چلاکرتے تھے اور ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر رہا کرتی تھیں اور آج لوگوں کا یہ حال ہے کہ ہر طرف لوگ غفلت اور بے خوفی کے ساتھ اِدھر اُدھر پھر رہے ہیں، کسی کے چہرے پر خوف خداوندی عزوجل کا اثر نظر ہی نہیں آتا۔ آپ نے جس دن یہ فرمایااس کے بعد پھر کسی نے کبھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:بے شک تیرے رب کاعذاب ضرورہوناہے۔(پ۲۷،الطور:۷)
2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۲۶