| آئینہ عبرت |
امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر خوفِ الٰہی عزوجل کا بے حد غلبہ تھا۔ کسی چڑیا کو دیکھتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش! میں تیری ہی طرح کا ایک پرندہ ہوتا اور انسان نہ ہوتا۔(تاکہ میں قیامت کے دن اعمال کے حساب سے بچ جاتا)(1)
(احیاء العلوم ج ۴ ص۱۵۹)(۲) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اس قدر خدا عزوجل کا خوف غالب تھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن مجید کی آیت سن کر بے ہوش ہوجاتے اور کئی کئی دنوں تک ان پر غشی کا دورہ پڑتا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ لوگ ان کی عیادت ( بیمار پرسی) کے لیے جایا کرتے تھے۔ اور ایک دن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک تنکا ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ کاش! میں بجائے عمر ہونے کے یہ تنکا ہوتا۔ کبھی فرماتے کہ کاش! میں کوئی قابلِ ذکر شخصیت نہ ہوتا۔ کبھی یہ کہتے کہ کاش !عمر کی ماں عمر کو نہ جنتی اور منقول ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے میں آنسوؤں کے بکثرت بہنے کی وجہ سے دو کالی لکیریں بن گئی تھیں۔ ایک مرتبہ خود ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ
اِذَا الشَّمْسُ
کی تلاوت کی اور جب
وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ـ2ـ
کی آیت پر پہنچے۔ یعنی جب نامہ اعمال کھولے جائیں گے۔ تو اس کو پڑھتے ہی ان پر اس قدر خوفِ الٰہی عزوجل طاری ہوگیا کہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ ایک
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۲۶ 2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں ۔(پ۳۰،التکویر:۱۰)