| آئینہ عبرت |
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ میں نے امام اوزاعی(محدث شام) رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو خواب میں دیکھا اور عرض کیا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے کہ میں خدا عزوجل کا مقرب بن جاؤں تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ میں نے علماء کرام اور غمگین رہنے والوں سے بڑھ کر کسی کا درجہ نہیں دیکھا۔ یزید بن مذعور رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بہت عمر دراز اور بہت ہی بوڑھے تھے۔ وہ ہر وقت خوفِ خدا سے رویا کرتے تھے، یہاں تک کہ روتے روتے وہ نابینا ہوگئے تھے۔(1)(احیاء العلوم ج ۴ ص۴۳۲)
(۵) غلبۂ خوف میں کس نے کیا کہا؟
یہ شریعت کا مسئلہ ہے کہ
الیأس من رحمۃ اللہ کفر
یعنی خدا عزوجل کی رحمت سے بالکل ہی ناامید ہوجانا اور اپنی مغفرت سے مایو س ہوجانا کفر ہے، اور
وکذا الامن من عقوبتہ کفر
یعنی اللہ تعالی کے عذاب سے بے خوف اور نڈر ہوجانا بھی کفر ہے۔(2)
ایمان کا نشان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مغفرت کی امیدبھی رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرتا بھی رہے۔ بزرگانِ سلف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کا یہ طریقہ رہا ہے کہ بعض پرامید کا غلبہ بعض پر خوف کا غلبہ رہا ہے۔ ہم یہاں چند بزرگوں کے واقعات درج کرتے ہیں جن پر خوفِ خداوندی عزوجل غالب رہا ہے اور وہ غلبہ خوف میں بڑے بڑے عبرت خیز ورقت انگیز کلمات بولتے رہے، آپ بھی ان کو پڑھ کر عبرت حاصل کیجئے۔
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثامن،بیان منامات المشائخ، ج۵،ص۲۶۴ 2۔۔۔۔۔۔شرح ملاعلی القاری علی الفقہ الاکبر،ص۱۴۹