یہ اکابر اولیاء میں سے ہیں، ان کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں ابلیس کو دیکھا تو اس کو مارنے کے لیے اپنی لاٹھی اٹھائی مگر وہ بالکل خوفزدہ نہیں ہوا تو اس وقت ایک غیبی آواز میں نے سنی کہ اے ابوسعید خراز ! یہ ابلیس ہے یہ لاٹھی ڈنڈے سے نہیں ڈرتا ہے یہ تو بس اس شخص سے کانپتا ہے اور لرزتا ہے جس کے قلب میں ایمان کا نور ہوتا ہے، اور ابوسعید خراز نے یہ بھی فرمایا کہ میں دمشق میں تھا تو میں نے یہ خواب دیکھا کہ گویا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کاندھوں پر ٹیک لگائے تشریف لائے اور میں اس وقت کوئی راگ گارہا تھا اور سینہ کوٹ رہا تھا تو حضور نے فرمایا کہ اے ابوسعید !اس کا شر اس کے خیر سے بڑھ کر ہے۔(1)
(احیاء العلوم ج۴ص۴۳۲)