Brailvi Books

آئینہ عبرت
90 - 133
 (۲۲) حضرت ابوسعید خراز رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
    یہ اکابر اولیاء میں سے ہیں، ان کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں ابلیس کو دیکھا تو اس کو مارنے کے لیے اپنی لاٹھی اٹھائی مگر وہ بالکل خوفزدہ نہیں ہوا تو اس وقت ایک غیبی آواز میں نے سنی کہ اے ابوسعید خراز ! یہ ابلیس ہے یہ لاٹھی ڈنڈے سے نہیں ڈرتا ہے یہ تو بس اس شخص سے کانپتا ہے اور لرزتا ہے جس کے قلب میں ایمان کا نور ہوتا ہے، اور ابوسعید خراز نے یہ بھی فرمایا کہ میں دمشق میں تھا تو میں نے یہ خواب دیکھا کہ گویا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کاندھوں پر ٹیک لگائے تشریف لائے اور میں اس وقت کوئی راگ گارہا تھا اور سینہ کوٹ رہا تھا تو حضور نے فرمایا کہ اے ابوسعید !اس کا شر اس کے خیر سے بڑھ کر ہے۔(1)

                     (احیاء العلوم ج۴ص۴۳۲)
 (۲۳) حضرت احمد بن ابی الحواری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
    یہ بڑے پائے کے اولیاء کاملین میں سے ہیں، ان کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں اپنی ایک لونڈی کو دیکھا جس کا چہرہ چمک رہا تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے چہرے پر اتنی چمک کیسے پیدا ہوگئی؟ تو اس نے کہا کہ آپ کو یاد نہیں ایک رات آپ خوف خداعزوجل سے زار زار رو رہے تھے، اور آپ کے آنسو بہہ رہے تھے تو کمالِ محبت سے میں نے آپ کے آنسو ؤں کو اپنے چہرے پر مل لیا تھا۔ یہ چمک اسی آنسو کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔(2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۳۲)
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثامن،بیان منامات المشائخ، ج۵،ص۲۶۵ 2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق
Flag Counter