| آئینہ عبرت |
ہیں کہ میں نے حضرت یحیی بن معین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو وفات کے بعد خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیسا معاملہ فرمایا ؟ تو جواب دیا کہ میری مغفرت ہوگئی، اور دو مرتبہ مجھ کو اپنے دیدار سے مشرف فرمایا۔ اور یہ بھی منقول ہے کہ ان کی وفات کے بعد بغداد کے ایک بزرگ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ خواب دیکھا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لے جارہے ہیں اور دریافت کرنے پر فرمایا کہ یحیی بن معین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی نماز جنازہ میں جارہا ہوں۔ یہ وہ شخص تھا کہ میری حدیثوں سے جھوٹ کو دفع کیا کرتا تھا۔(1)(تہذیب التہذیب وغیرہ)
(۲۱)حضرت ابوبکر کتانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
مشائخ صوفیہ میں یہ بہت ہی نامور بزرگ ہیں یہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں ایک جوان کو دیکھا کہ کبھی اتنا خوبصورت جوان میری نظروں کے سامنے نہیں آیا تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اس نے کہا کہ میرا نام '' تقویٰ'' ہے تو میں نے کہا کہ تم کہاں رہتے ہو؟ تو اس نے کہا کہ ہر غمگین دل میں، پھر وہ مڑا تو ایک بدشکل اور بہت کالی عورت نظر آئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو اس نے کہا کہ '' بدکاری'' تو میں نے کہا کہ تم کہاں رہتی ہو؟ تو اس نے کہا کہ ہر خوشی منانے والے اترانے والے کے دل میں۔ ابوبکر کتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ خواب دیکھ کر میں جاگ گیا اور میں نے خداعزوجل سے یہ عہد کرلیا کہ اب زندگی بھر میں سوائے بے اختیاری ہنسی کے کبھی نہیں ہنسوں گا۔(2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۳۲)
1۔۔۔۔۔۔تہذیب التھذیب،ج۹،ص۳۰۳ 2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثامن،بیان منامات المشائخ، ج۵،ص۲۶۵