Brailvi Books

آئینہ عبرت
84 - 133
نظرت اِلی ربی کفاحا فقال لی

ھنیئًا رضائی عنک یا ابن سعید
میں نے اپنے رب کا آمنے سامنے دیدار کیا،تو اس نے مجھ سے فرمایا کہ اے سعید کے فرزند میری رضا و خوشنودی تجھے مبارک ہو
قد کنت قواما اذا اظلم الدجی 

بعبرۃ مشتاق وقلب عمید
بے شک اندھیری راتوں میں تم بہت زیادہ قیام اللیل کرتے تھے مشتاق کے آنسواور عاشق کے دل کے ساتھ
فدونک فاختر ای قصر اردتہ

وزرنی فانی منک غیر بعید
تم جون سا محل چاہو اپنے لیے چن لو اور تم میری زیارت کرتے رہو کیونکہ میں تم سے دور نہیں ہوں۔(1)(احیاء العلوم ج۴ ص۴۳۲وغیرہ)
(۱۳) حضرت عبدالواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کباراولیاء میں سے ہیں، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بیان فرمایا کہ میں نے حج کے دوران ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور اپنے ہر سکون و حرکت میں لگاتار درود شریف ہی پڑھتا رہتا ہے۔ دوسری کوئی دعا میں نے اس کی زبان سے سنی ہی نہیں، میں نے اس سے اس کا راز پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں پہلی بار اپنے والد کو ہمراہ لے کر حج کے لیے گیا تو واپسی پر ایک منزل میں مجھے نیند آگئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اٹھ تیرا باپ مرگیا اور اس کا چہرہ بالکل ہی کالا ہوگیا ہے تو میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا اور اپنے باپ کے سر سے چادر ہٹائی تو وہ واقعی
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثامن،بیان منامات المشائخ، ج۵،ص۲۶۵،۲۶۶
Flag Counter