بغداد کے مشہور بزرگ حضرت معروف کرخی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے ایک رفیق سے کہا کہ تم مجھے امام ابویوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کی خبر دینا۔ رفیق کا بیان ہے کہ میں بغداد کے ایک دروازے پر پہنچا تو امام ابویوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا جنازہ جارہا تھا میں نے سوچا کہ اگر حضرت معروف کرخی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو خبر دینے جاتا ہوں تو نماز جنازہ فوت ہوجائے گی اس لیے میں نماز جنازہ پڑھ کر ان کے پاس گیا اور ان کو خبر سنائی تو ان کو بے حد صدمہ ہوا بار بار انا للہ پڑھتے رہے اورافسوس کرتے رہے کہ ہائے! میں ان کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوسکا پھر فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں جنت میں داخل ہوا وہاں دیکھتا ہوں کہ ایک محل تیار ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ محل امام ابویوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے لیے بنا ہے ان کی اچھی تعلیم اور تعلیمِ دین کے شوق کے صلہ میں، اور انہوں نے لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کیا اس کے اجر میں خدا عزوجل نے ان کو یہ بلند مرتبہ عطا فرمایاہے۔۵ ربیع الاول ۱۸۲ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ مزار شریف بغداد میں ہے۔(2) (اولیاء رجال الحدیث واحیاء العلوم ج۴)