Brailvi Books

آئینہ عبرت
77 - 133
(۴) اموات کے لیے کس نے کیا خواب دیکھا؟
    مومن کے اچھے اچھے خوابوں کی بہت وقعت و اہمیت ہے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ
لم یبق من النبوۃ الا المبشرات قالوا: وما المبشرات؟ قال: الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل المسلم او تری لہ (1)
    نبوت میں سے مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہ گیا ہے تو صحابہ علیہم الرضوان نے کہا کہ مبشرات کیا ہیں؟ تو ارشاد فرمایا کہ ''اچھے اچھے خواب خود مسلمان اس کو اپنے لیے دیکھے یا کوئی دوسرا اس کے لیے دیکھے۔''تو اموات کے بارے میں بزرگوں نے جو اچھے اچھے خواب دیکھے ہیں۔ ان میں سے چند خوابوں کو ہم یہاں نقل کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ان خوابوں سے عبر ت حاصل ہو۔ واللہ تعالیٰ ھوالموفق

                 (مشکوٰۃج۲ص۳۹۴بحوالہ بخاری)
 (۱) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی وفات کے بعد لوگوں نے دیکھا اور پوچھا کہ اے امیرالمومنین ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اپنی زبان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اس زبان نے مجھے ہلاکت کی جگہوں میں گرایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو  آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اسی سے
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ 
پڑھا تھا۔ تو اسی زبان نے مجھے جنت میں داخل
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب التعبیر،باب المبشرات،الحدیث:۴۹۹۰،ج۴،ص۴۰۴۔ 

مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الرؤیا،الفصل الاول،الحدیث:۴۶۰۶،۴۶۰۷، ج۲، ص ۱۵۶
Flag Counter