دنیا کی کنجی
حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں: دنیا کی کنجی شکم سیری اور آخرت کی کنجی بھوک ہے۔ (نزہۃ المجالس، ج۱،ص۱۷۷)
حضرت سیدنا سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: (۱)بروز قیامت کوئی عمل ضرورت سے زیادہ کھانے کو ترک کرنے سے افضل نہ ہوگا کیونکہ یہ سنت نبوی ہے (۲)سمجھدار لوگ دین ودنیا میں بھوک کو بہت زیادہ نفع بخش قرار دیتے ہیں (۳)آخرت کے طلبگاروں کے ليے کھانے سے زیادہ کسی چیز کو میں نقصان دہ نہیں سمجھتا (۴)علم وحکمت کو بھوک میں اور گناہ وجہالت کو شکم سیری میں رکھا گیا ہے (۵)جو اپنے نفس کو بھوکا رکھتا ہے اس سے وسوسے ختم ہو جاتے ہیں (۶)بندہ جب بھوکا، بیمار اور امتحان میں مبتلا ہوتا ہے اس وقت اللہ عزوجل کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے مگر جسے اللہ عزوجل چاہے۔(احیاء العلوم، ج۳، ص۹۱)
جاندار بدن کی آفتیں
حضرت سیدنا یحیی معاذ رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: جو پیٹ بھر کر کھانے کا عادی ہو جاتا ہے اس کے بدن پر گوشت بڑھ جاتا ہے اور جس کے بدن پر گوشت بڑھ جاتا ہے وہ شہوت پرست ہوجاتا ہے اور جوشہوت پرست ہوجاتا ہے اس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور جس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور جس کا دل سخت ہو جاتا ہے وہ دنیا کی آفتوں اور رنگینیوں میں غرق ہو جاتا ہے۔ (المنبہات للعسقلانی، باب الخماسی، ص۵۹) (فیضان سنت،ج۱)