| آئینہ عبرت |
اس دعا پر حاضرین کو رقت طاری ہوگئی اور سب لوگ رونے لگے۔ پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ اے ذر! تیرے بعد اب میرا کوئی خاص باقی نہیں رہ گیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ہوتے ہوئے مجھے کسی انسان کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے، اے بیٹا!اب ہم تجھے چھوڑ کر جارہے ہیں اور اگر ہم یہاں ٹھہریں بھی تو اس سے تجھے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ نوٹ: حضرت عمررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے باپ کا نام بھی ذر تھا اور ان کے بیٹے کا نام بھی ذر تھا۔(1) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۵)
(۶) بصرہ کی ایک صابرہ عورت
بصرہ کی ایک عورت کو دیکھ کر ایک شخص نے کہا کہ تیرے چہرے پر عجیب رونق ہے۔ شاید تجھے کوئی غم نہیں پہنچا ہے تو عورت نے کہا: غم تو مجھے ایسا پہنچا ہے کہ شاید بہت ہی کم لوگوں کو ایسا غم پہنچا ہوگا۔
سنو ! میرے دو بچے نہایت ہی خوبصورت تھے، جو ہر وقت میرے سامنے کھیلتے رہتے تھے، بقرہ عید کے دن میرے شوہر نے ایک بکری کی قربانی کی جس کو میرے بڑے لڑکے نے دیکھ لیا تھا تو اس نے میرے چھوٹے لڑکے سے کہا کہ آؤ میں تجھے دکھلادوں کہ کس طرح میرے باپ نے بکری ذبح کی تھی، یہ کہا اور چھری لے کر اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو ذبح کردیا۔ پھر وہ ڈر سے پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ پھر میرا شوہر اس بچے کی تلاش میں پہاڑ پر چڑھا تو وہ پیاس سے مرگیا۔ اے شخص !ایک ہی دن دونوں بیٹے اور شوہر کی موت کا غم مجھ پر پڑ گیا۔اب میں دنیا1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب السادس،بیان اقاویلھم عند موت الولد،ج۵،ص۲۴۱