| آئینہ عبرت |
تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دل میں ڈال دی ہے اور اللہ تعالیٰ انھیں بندوں پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔(1)(مشکوٰۃج۱ص۱۵۰ بحوالہ بخاری ومسلم) (۴) ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ اپنے بچے کو لے کر بارگاہ رسالت میں آیا کرتے تھے ایک بار وہ تنہا آئے تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے بچہ کوکیا ہوا؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ تو مر گیا یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس کو پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس پھاٹک پر بھی جاؤ گے تو وہ تمہارا بچہ تمہارا انتظار کررہا ہوگا۔(2)(مشکوٰۃج۱ص۱۵۳ )
(۲) حضرت داؤد علی نبیناوعلیہ الصلاۃو السلام
حضرت داؤدعلی نبیناوعلیہ الصلاۃو السلام کا ایک فرزند وفات پاگیا تو آپ کو بے حد غم ہوا۔ آپ سے کسی نے کہا کہ اے داؤد!علی نبیناوعلیہ الصلاۃو السلام تم اس بچے کو بچانے کے لیے کتنا فدیہ دے سکتے تھے ٰ؟ تو آپ نے عرض کیا کہ زمین بھر کر سونا۔ تو آپ سے کہاگیا کہ اے داؤد! علی نبیناوعلیہ الصلاۃو السلام تم کو اتنا ہی بڑا ثواب ملے گا۔(3)
(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۵)( ۳) حضرت محمد بن سلیمان رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
یہ ایک مشہور ونامور تابعی محدث ہیں انہوں نے اپنے فرزند کی قبر پر اس
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ، الحدیث: ۱۲۸۴، ج۱،ص۴۳۴ 2۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث فرۃ المزنی،الحدیث۲۰۳۸۷،ج۷،ص۳۰۳ 3۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت وما بعدہ،الباب السادس،بیان اقاویلھم عند موت الولد، ج۵،ص۲۴۱