| آئینہ عبرت |
وآلہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ گئے تو صاحبزادہ کی جانکنی کا منظر دیکھ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ رو رہے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عوف کے بیٹے! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرا یہ آنسو بہانا شفقت ہے، پھر دوبارہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو بہنے لگے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
ان العین تدمع والقلب یحزن ولا نقول الا ما یرضی ربنا وانا بفراقک یا ابراہیم لمحزونون۔
یعنی آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے اور ہم وہی بات کہتے ہیں جس سے ہمارا رب عزوجل راضی ہو اور بلاشبہ اے ابراہیم! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں۔(1)(مشکوٰۃج۱ص۱۵۰ بحوالہ بخاری ومسلم)
(۳) حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرزند کی وفات کے وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سعد بن عبادہ و معاذ بن جبل و اُبی بن کعب و زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہم وغیرہ بھی تھے تو بچہ اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں دیا گیا جب کہ وہ جانکنی کے عالم میں تڑپ رہا تھا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یہ کیا؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ یہ شفقت ہے جو اللہ
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ، الحدیث: ۱۳۰۳، ج۱،ص۴۴۱