| آئینہ عبرت |
لہٰذا پلٹ کر اپنے گھر چلے گئے) ان دونوں آوازوں کو لوگوں نے سنا مگر آواز دینے والوں کو کسی نے نہ دیکھا۔(1)(مشکوٰۃج۱ص۱۵۲واحیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)
(۱۳) فرزدق شاعر
یہ بہت ہی مشہور شاعر ہے جو اہلِ بیت کا بہت ہی محب و مداح تھا۔ جب اس کی بیوی کا انتقال ہوا تو بصرہ کے تمام شرفاء و رؤساجنازہ میں شامل ہوئے۔ قبرستان میں حضرت خوا جہ حسن بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرزدق سے پوچھا کہ کیوں فرزدق! تم نے اس دن کے لیے کون سی تیاری کررکھی ہے؟ تو فرزدق نے جواب دیاکہ میری بس یہی تیاری ہے کہ ساٹھ برس سے کلمہ پڑھتا رہا ہوں، پھر فرزدق اپنی بیوی کی قبر کے پاس دردناک لہجے میں یہ اشعار پڑھنے لگا:
اخاف وراء القبر ان لم تعافنی اشد من القبر التھابا واضیقا
(اے اللہ!عزوجل) اگر تو نے مجھے معاف نہ کردیا تو قبرکے علاوہ قبرسے زیادہ تنگ جگہ اوربھڑکنے والی آگ کا مجھے خوف ہے
اذا جاء یوم القیامۃ قائد عنیف وسواق یسوق الفرزدقا
قیامت کے دن جب ایک بہت ہی سخت مزاج کھینچنے والا اور ہانکنے والا فرزدق کو لے چلے گا
لقد خاب من اولاد آدم من مشی
الی النار مغلول القلادۃ ازرقا1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب مایکرہ من اتخاذالمسجد، ج۱،ص۴۴۸۔ احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس، فصل بیان حال القبر واقاویلھم عند القبور،ج۵،ص۲۳۸