| آئینہ عبرت |
تھا۔ دوسری اچھی بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ ایک یاد و یتیم بچوں کو اپنے گھر میں رکھتا تھا اور ان یتیموں کے ساتھ اپنے بچوں سے بڑھ کر اچھا سلوک کیا کرتا تھا۔ تیسری اچھی بات یہ ہے کہ رات میں جب کبھی بھی اس کا نشہ ا ترتا تھا تو وہ اکیلا زار زار روتا تھا اور یہی کہتا تھا کہ اے میرے رب!عزوجل تو جہنم کے کون سے گوشہ میں مجھ خبیث کو ڈالے گا۔ یہ سن کر بزرگ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اس کی مغفرت کا راز سمجھ گئے۔ پھر وہ اس میت کے لیے دعائیں کرتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔(1)(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۲)
(۱۲)حضرت فاطمہ بنت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما
یہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی ہیں جو عام طور پر ''فاطمہ صغریٰ'' کے لقب سے مشہور ہیں جب ان کے شوہر حسن بن امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا وصال ہوگیا تو انہوں نے ان کے جنازہ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھا کہ
وکا نوا رجاء ثم امسوا رزیۃ لقد عظمت تلک الرزایا وجلت
یہ لوگ امید تھے پھر شام کو مصیبت بن گئے تو یہ مصیبتیں بہت زیادہ اور بڑی شاندار ہوگئیں۔ پھر انہوں نے اپنے شوہر کی قبر کے پاس ایک خیمہ گاڑا اور مسلسل ایک سال تک وہ اسی خیمہ میں رہیں۔ سال بھر کے بعد خیمہ اکھاڑ کر جب وہ اپنے مکان پر جانے لگیں تو مدینہ منورہ کے قبرستان جنۃ البقیع کے ایک جانب سے ایک غیبی آواز آئی۔ کہ
الا ھل وجدوا مافقدوا
(خبردار!کیا ان لوگوں نے اس چیز کو پالیاجس کو کھودیا تھا) تو دوسرے کنارے سے یہ آواز آئی کہ
بل یئسوا فانقلبوا
( نہیں بلکہ ناامید ہوگئے
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت وما بعدہ،الباب السادس فی اقاویل العارفین...الخ، ج۵،ص۲۳۶