| آئینہ عبرت |
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہی کلمات فرماتے رہتے یہاں تک کہ صبح صادق نمودار ہوجاتی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز فجر کے لیے مسجدمیں تشریف لے جاتے۔(1)(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)
(۶)حضرت یزید رقاشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
مشہور وباکمال محدث حضرت یزید رقاشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ قبروں کے پاس جاکر فرمایا کرتے کہ اے قبر کے گڑھے میں دفن ہوجانے والو! اور اے تنہائی میں رہنے والو! اور اے زمین کے اندرونی حصہ میں اُنسیت رکھنے والو! کاش! مجھے خبر ہوجاتی کہ میں تمہارے کون سے اعمال پر خوشخبری حاصل کروں؟ اور میں تم میں سے کون سے بھائی پر رشک کروں؟ یہ فرما کر پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر روتے کہ آنسوؤں سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمامہ بھیگ جاتا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی کسی قبر کو دیکھ لیتے تو اتنے زور زور سے رونے کی آواز نکالتے تھے جیسے بیل چیخا کرتا ہے۔(2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)
(۷) حضرت سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
مشہور محدث اور فقیہ حضرت سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جو حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ہم عصر اور کوفہ کے باشندہ تھے فرمایا کرتے تھے کہ جو مسلمان بکثرت قبروں کا تذکرہ کرتا رہے گا وہ اپنی قبر کو جنت کا باغ پائے گا اور جو قبروں کے ذکر اور ان کی یاد سے غافل رہے گا وہ اپنی قبرکو جہنم کا گڑھا پائے گا۔(3)(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس فی اقاویل العارفین علی الجنائز والمقابروحکم زیارۃ القبور،ج۵،ص۲۳۷ 2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس فی اقاویل العارفین علی الجنائز والمقابروحکم زیارۃ القبور،ج۵،ص۲۳۷ 3۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس فی اقاویل العارفین علی الجنائز والمقابروحکم زیارۃ القبور،ج۵،ص۲۳۸