(واجب ہوگئی) تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی کہ کیا چیز واجب ہوگئی ؟ یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک جنازہ کی میت کو تم لوگوں نے اچھا بتایا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور دوسرے جنازے کی میت کو تم لوگوں نے برا بتایا تو اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی کیونکہ تم (مومنین صالحین)روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔(1)
تو جس میت کو تم لوگوں نے اچھا بتایا وہ اللہ تعالی کے نزدیک بھی اچھاٹھہرا اور جس میت کوتم لوگوں نے برابتایاوہ اللہ تعالی کے نزدیک بھی برا قرار پایا۔
(مشکوٰۃج۱ص۱۴۵)
(۳) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ دیکھ کر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مستریح اور مستراح منہ ( یہ آرام پانے والا ہے یا لوگوں کو اس سے آرام مل گیا ہے ) تو لوگوں نے عرض کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مومن بندہ (جو نیک ہو وہ تو) وفات پاکر دنیا کی ایذاؤں اور مصیبتوں سے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب ثناء الناس علی المیت، الحدیث:۱۳۶۷، ج۱،ص۴۶۰