Brailvi Books

آئینہ عبرت
61 - 133
میں مرنے لگاتواس کی زبان پریہ دعاجاری ہوگئی۔یہی دعامانگتے مانگتے اس کادم نکل گیا۔ اس کی دعایہ تھی کہ
اللہم اغفرلی فان الناس یقولون انک لاتغفرلی۔
اے میرے اللہ! عزوجل تومجھے بخش دے کیونکہ سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ تومجھے نہیں بخشے گا۔
    خلیفہ عادل حضرت عمربن عبدالعزیزرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوحجاج بن یوسف ثقفی کی زبان سے مرتے وقت کی یہ دعابہت اچھی لگی اوران کوحجاج کی موت پررشک ہونے لگااورجب حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے لوگوں نے حجاج کی اس دعاکا ذکرکیا توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے تعجب سے فرمایاکہ کیاواقعی حجاج نے یہ دعامانگی تھی؟ تولوگوں نے کہاکہ جی ہاں اس نے یہ دعامانگی تھی۔تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ شاید(خدااس کوبخش دے)۔(1)(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)
 (۲)جنازہ یا قبر دیکھ کر کس نے کیا کہا؟
    جنازہ یا قبر دیکھ کر موت کی یاد آجاتی ہے اس خوفناک اور بھیانک منظر کو دیکھ کر بزرگوں نے کیا فرمایا؟ اس بارے میں ہم چند حوالے نقل کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس سے عبرت حاصل ہو اور لوگ اپنی زندگی میں قبر کا سامان کرلیں۔
 (۱) حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
 (۱)حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ
القبرروضۃ من ریاض الجنۃ اوحفرۃ من حفرالنار رواہ الترمذی(2)
قبرجنت کے باغوں
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۱

2۔۔۔۔۔۔جامع الترمذی،کتاب القیامۃ،باب ۹۱، الحدیث:۲۴۶۸،ج۴،ص۲۰۸
Flag Counter