Brailvi Books

آئینہ عبرت
60 - 133
قوال نے شیخ احمد جام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا یہ شعر پڑھ دیا کہ
  کشتگانِ خنجر تسلیم را

                   ہر زمان از غیب جانی دیگر است
تسلیم و رضا کے خنجرسے قتل کیے ہوئے شخص کوہرگھڑی غیب سے ایک نئی زندگی ملاکرتی ہے ۔
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ یہ شعر سن کر تین شب و روز حیرت کے عالم میں رہے اور کچھ بھی نہیں بولے اور پانچویں رات آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہوگیا، خواجہ میر حسن دہلوی نے اسی زمین پر اس کی تضمین کی ہے جس میں اس واقعہ کو نظم کیا ہے۔
جان برین یک بیت دادہ است آں بزرگ

                        آرے ایں گوہر زکانے دیگر است

کشتگانِ خنجر تسلیم را

                   ہر زمان از غیب جانے دیگر است
   اس ایک شعر پر ان بزرگ نے جان دیدی ہاں یہ گوہر کسی دوسری کان سے نکلا ہوا ہے۔ تسلیم و رضا کے خنجر سے قتل کیے ہوئے شخص کوہرگھڑی غیب سے ایک نئی زندگی ملا کرتی ہے۔(اخبار الاخیار شیخ محقق ص۳۲)
 (۵۰)حجاج بن یوسف ثقفی ظالم
    یہ خلفائے بنوامیہ میں سے انتہائی سفاک وخونخوارظالم گورنرتھا۔اس نے ایک لاکھ انسانوں کواپنی تلوارسے قتل کیااورجولوگ اس کے حکم سے قتل کئے گئے ان کوتوکوئی گن ہی نہیں سکا۔بہت سے صحابہ اورتابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کواس نے قتل کیایاقیدوبند رکھا۔ حضرت خوا جہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایاکرتے تھے کہ اگرساری امتیں اپنے اپنے منافقوں کوقیامت کے دن لے کرآئيں اورہم اپنے ایک منافق حجاج بن یوسف ثقفی کوپیش کردیں توہماراپلہ بھاری رہے گا۔یہ حجاج بن یوسف جب کینسرکی خبیث بیماری
1۔۔۔۔۔۔اخبارالاخیار، ص۲۵۔۲۶
Flag Counter