Brailvi Books

آئینہ عبرت
59 - 133
دوسرا شعر اسی پتھر پر لکھا ہوا ہے کہ
وکیف یداری والہوی قاتل الفتی

وفی کل یوم قلبہ یتقطع
عاشق کیسے نرمی برتے؟ حالت تو یہ ہے کہ عشق جوان کو قتل کیے جارہاہے اور روزانہ اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہورہا ہے۔
اصمعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اس شعر کے نیچے یہ شعر لکھ دیا کہ
اذا لم یجد صبرا لکتمان سرہ 

فلیس لہ شیء سوی الموت ینفع
جب عاشق اپنے راز کو چھپانے کے لیے صبر نہیں کرپاتا تو اس کو موت کے سوا کوئی دوسری چیز کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
اصمعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ پھر میں تیسرے دن وہاں گیا تو دیکھتا ہوں کہ ایک جوان کی لاش وہاں پڑی ہوئی ہے اور یہ دو شعر اس پتھر پر لکھے ہوئے ہیں کہ
سمعنا اطعنا ثم متنا فبلغوا 

                                       سلامی علی من کان للوصل یمنع

ھنیأا لارباب النعیم نعیمھم 

                                    وللعاشق المسکین مایتجرع
ہم نے سن لیا اور آپ کی بات مان لی پھر ہم مرگئے تو ہمارا سلام اس شخص کو پہنچا دو جو وصال سے ہمیں روکتا تھا۔

نعمت والوں کو ان کی نعمت مبارک ہو اور عاشق مسکین کو عشق کا کڑوا گھونٹ مبارک ہو جس کو وہ گھونٹ گھونٹ پی رہا ہے۔
(۴۹) حضرت خوا جہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
  آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ حضرت خوا جہ معین الدین اجمیری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بڑے بلند مرتبہ خلیفہ ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہر وقت غرق رہا کرتے تھے۔ ایک دن
Flag Counter