| آئینہ عبرت |
کی وفات کے وقت کسی نے ان سے کوئی مسئلہ پوچھا تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے کہ اے میرے پیارے بیٹے! میں ایک دروازہ جس کو پچانوے برس سے کھٹکھٹاتا رہا ہوں وہ آج اس وقت کھل رہا ہے لیکن میں کچھ نہیں جانتا کہ وہ دروازہ سعادت کے ساتھ کھلے گا یا شقاوت کے ساتھ کھلے گا تو ایسی حالت میں میرے لیے کسی مسئلہ کے جواب کا بھلا کہاں موقع ہے(1)
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ فرمایا اور بالکل خاموش ہوگئے، جب لوگوں نے انہیں غور سے دیکھا تو وہ وفات پاچکے تھے۔(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۱)( ۴۸) ایک عاشق صادق رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
لغت کے امام جناب اصمعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک سنسان جگہ میں ایک پتھر پر یہ شعر لکھا ہوا دیکھا کہ
ایا معشر العشاق باللہ خبروا اذا حل عشق بالفتی کیف یصنع
اے عاشقوں کی جماعت! تم لوگ مجھے خبر دو میں تم لوگوں کو خدا عزوجل کی قسم دیتا ہوں کہ جب عشق کسی جوان پر اتر پڑے تو وہ کیا کرے۔ اصمعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اس شعر کے نیچے یہ شعر لکھ دیا:
ید اری ھواہ ثم یکتم سرہ
ویخشع فی کل الامور ویخضعاپنے عشق کے ساتھ نرمی برتے پھر اپنے راز کو چھپائے رکھے اور تمام کاموں میں عاجزی و انکساری رکھے، اصمعی کہتے ہیں کہ میں دوسرے دن وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام ا لمحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۴