Brailvi Books

آئینہ عبرت
55 - 133
اور بہت بڑی تمنا یہی ہے کہ مرنے سے پہلے ایک ہی لحظہ کے لیے مجھے خداوند قدوس کی معرفت حاصل ہوجائے۔یہ فرمانے کے بعد فوراً  ہی آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی روحِ پاک عالِم آخرت کو روانہ ہوگئی اور لوگ ان کا منہ تکتے رہ گئے۔(1)(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)
 ( ۴۳) حضرت ممشاد دینوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
    یہ سلسلہ چشتیہ کے مشہور اکابر اولیاء میں سے ہیں۔ ایک شخص سے منقول ہے کہ میں حضرت ممشاد دینوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر تھا تو ایک درویش آئے اور سلام کرکے پوچھا کہ یہاں کوئی ایسی صاف ستھری جگہ ہے جہاں ایک انسان کے لیے مرنا آسان ہو۔ تو لوگوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کردیا جہاں پانی کا چشمہ تھا تو اس درویش نے وضو کیا اور کچھ نماز میں پڑھتا رہا۔ پھر پاؤں پھیلا کر لیٹ گیا اور اس کی وفات ہوگئی۔(2)
     بعض مشائخ حضرت ممشاد دینوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس عالم سکرات میں آئے اور دعائیں کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو یہ نعمت دے وہ نعمت دے تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ہنس کر فرمایاکہ آپ لوگ میرے لیے کیا کیا دعائیں مانگ رہے ہیں تیس برس سے برابر میرے سامنے جنت پیش کی جارہی ہے، مگر میں نے تو ایک مرتبہ نگاہ اٹھا کر اس کو دیکھا بھی نہیں ہے۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ فرمایا
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۲۔تذکرۃ الاولیاء،ذکرذوالنون مصری،ص۱۲۸

2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۲
Flag Counter