| آئینہ عبرت |
جریری محدث کا بیان ہے کہ میں حضرت جنید بغدادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی جانکنی کے وقت جب کہ وہ سکرات کے عالم میں تھے حاضر ہوا تو وہ تلاوت کررہے تھے۔ جمعہ کا دن تھا، جب وہ تلاوت ختم کرچکے تو میں نے عرض کی کہ اس وقت میں بھی آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ تلاوت کررہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے زیادہ تلاوت کا حقدار دوسرا کون ہوگا؟ دیکھ نہیں رہے ہو؟ کہ میری زندگی کا نامہ اعمال لپیٹا جارہا ہے۔پھر کسی نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے کلمہ پڑھنے کے لیے کہا تو تڑپ کر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ میں اس کلمہ کو تو زندگی میں کبھی بھولا ہی نہیں ہوں جو تم مجھے اس وقت یاددلارہے ہو۔
ابوالعباس بن عطاء رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ میں نزع کے عالم میں حضرت جنید بغدادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر تھوڑی دیر کے بعد جواب دیا اور فرمایا کہ مجھے معذور سمجھو، میں اس وقت وظیفہ میں مشغول تھا۔ پھراپنا چہرہ انہوں نے قبلہ کی طرف کرلیا اور نعرہ تکبیر لگایا اور روح نکل گئی۔(1)(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹تا۴۱۰)
( ۴۲) حضرت ذوالنّون مصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
بڑے بڑے اولیاء اللہ کی فہرست میں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا نام بہت مشہور اور ممتاز ہے۔ وفات کے وقت لوگوں نے پوچھا کہ اس وقت آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز کی خواہش وتمنا ہے؟ تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ بس میری ایک ہی خواہش
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۲۔۲۳۴