| آئینہ عبرت |
رورہا ہوں، بلکہ میں اس خیال سے رو رہا ہوں کہ میں اب مررہا ہوں تو اب گرمیوں کے روزوں میں دوپہر کی پیاس اور جاڑوں کی لمبی راتوں میں قیام اللیل (نوافل تہجد) کی لذت مجھے کہاں اور کیسے نصیب ہوا کرے گی؟ ہائے رے، یہ روح پرور اور جاں بخش لذتیں!یہی کہتے کہتے ان کی روح پرواز کر گئی۔(1)(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)
(۴۰) حضرت سری سقطی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
یہ سلسلہ قادریہ میں حضرت معروف کرخی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ اور حضرت جنید بغدادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پیر ہیں۔ بزرگ ترین اولیاء میں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا شمار ہے۔ حضرت جنیدبغدادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ان کے مرض وفات میں ان کی عیادت کے لیے گیااور حال و مزاج پوچھا تو انہوں نے نہایت ہی پُردرد لہجے میں یہ شعر پڑھا کہ
کیف اشکو الی طبیبی مابی
والذی بی اصابنی من طبیبیمیں کس طرح اپنے طبیب سے اپنی بیماری کی شکایت کروں؟ جب کہ میری بیماری میرے طبیب ہی کی طرف سے مجھے پہنچی ہے۔ پھر میں نے پنکھا جھلنا شروع کردیا تو انہوں نے فرمایا کہ پنکھے کی ہوا اس شخص کو کیسے لگے گی جو عشق الٰہی کی گرمی سے جل رہا ہو؟ اس کے بعد ہی آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہوگیا۔ (2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۰)
۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۲ 2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۳۔تذکرۃ الاولیاء،ذکر سری سقطی،ص۲۴۶