یہ نزع کے عالم میں بے قرار ہو کر بستر پر لوٹنے لگا تو خوشامدی لوگوں نے کہا کہ امیر المومنین آپ پر کوئی حرج نہیں، آپ تو بہت اچھے ہیں تو یہ سن کر خلیفہ منتصر باللہ نے کہا کہ کوئی حرج تو نہیں مگر یہ کیا کم ہے کہ دنیا جاتی رہی اور آخرت میرے سامنے کھڑی ہے، ہائے میں نے اپنے باپ کو قتل کرکے جلدی خلافت پر قبضہ جمالیا تو مجھ سے بھی جلد ہی خلافت چھین لی گئی۔ یہی الفاظ اس کی زبان پر تھے کہ اس کا دم نکل گیا۔ اس کی بادشاہی صرف چھ مہینے رہی۔ ابن طیفور، ترکی طبیب نے زہر آلود نشتر سے اس کی فصدکھولی،یہی اس کی موت کا سبب بنا ۔(2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹وتاریخ الخلفاء ص۲۴۴)
(۳۹) حضرت عامر بن عبدالقیس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
یہ بہت ہی مشہور عابد و زاہد بلکہ صاحب کرامت بلند مرتبہ اولیاء میں سے ہیں۔ یہ اپنی وفات کے وقت بے قرار ہو کر زارزار رونے لگے۔ جب رونے کا سبب پوچھا گیا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ میں موت کے ڈر یا دنیا کی محبت میں نہیں
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۱
2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۱۔تاریخ الخلفاء،المنتصر باللہ، ص۲۸۶