Brailvi Books

آئینہ عبرت
50 - 133
اور خلیفہ ہونے سے پہلے بہت عبادت گزار بھی تھا۔ جب اس کی وفات کا زمانہ قریب آیاتو اس نے ایک غسال کودمشق کے دروازے پر دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کرایک مردہ نہلانے جارہا تھا تو خلیفہ عبدالملک نے کہا کہ کاش میں بھی ایک غسال ہوتا اور اپنے ہاتھ ہی کی کمائی روزانہ کھاتا اور میں حکومت دنیا کے کسی معاملہ کا والی نہ بنتا۔ جب صوفی ابوحازم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو خلیفہ عبدالملک کے اس مقولہ کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ الحمدللہ کہ جب ان بادشاہوں کی موت کا وقت آتا ہے تو یہ لوگ ہمارے حال کی تمنا کرتے ہیں اور جب ہم لوگوں کی موت کا وقت آتا ہے تو ہم لوگ ان بادشاہوں کے حال کی تمنا نہیں کرتے۔
    عین جانکنی کے عالم میں کسی نے خلیفہ عبدالملک بن مروان سے پوچھا کہ اس وقت آپ اپنے آپ کو کیسا پارہے ہيں؟ تو اس نے کہا کہ میں اپنے آپ کو بالکل ویسا ہی پارہا ہوں جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ
وَ لَقَدْ جِئْتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ تَرَکْتُمۡ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُہُوۡرِکُمْ ۚ   ـ1ـ
اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیداکیا تھا اور پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے جو مال و متاع ہم نے تمہیں دیا تھا   (پ7,الانعام آیت:94)
یہ آیت اس نے تلاوت کی اور فوراً ہی اس کا دم نکل گیا۔(2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۸)
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیداکیا تھا اور پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے جو مال متاع ہم نے تمہیں دیا تھا۔(پ۷،الانعام:۹۴)

2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین...الخ، ج۵،ص۲۳۰
Flag Counter