| آئینہ عبرت |
پاؤں ہاتھ سے دبایا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایاکہ میری باندی! تم ان پیروں کو خوب اچھی طرح دباؤ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میرے یہ دونوں پاؤں زندگی بھر میں کبھی کسی گناہ کی طرف نہیں چلے ہیں۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی زبان مبارک سے یہ کلمات ادا ہوئے اور فوراً ہی آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی روح پرواز کرگئی۔ ۲۱۳ ھ میں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی وفات ہوئی۔(1)(تہذیب التہذیب)
(۳۳) حضرت بشر بن حارث رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
یہ وہی مشہور صاحبِ ولایت وباکرامت بزرگ ہیں جو عام طور پر ''بشر حافی'' رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ اتنے بلند مرتبہ محدث اور مفتی اعظم ہیں کہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ان کی درسگاہ کے ایک طالب علم ہیں۔ آخری عمر میں درس حدیث اور مجالس فتویٰ ختم کرکے گوشہ نشین ہوگئے اور ہمہ وقت عبادت و ریاضت میں مشغول رہنے لگے۔ بوقتِ وفات جانکنی کے عالم میں ان پر بہت زیادہ مشقت اور بے قراری ظاہر ہوئی تو کسی نے پوچھا کہ کیوں؟ کیا بات ہے؟ کیا آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو زندگی سے محبت ہے اور موت ناگوار ہے؟ تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایاکہ بھائی! اللہ تعالیٰ کے دربار میں جانا بہت دشوار معاملہ ہے اسے آسان نہ سمجھو، میں اسی لیے بے قراری میں پیچ و تاب کھارہا ہوں کہ یہ بہت ہی سنگین اور کٹھن مرحلہ ہے، یہ کہا اور ان کا وصال ہوگیا۔(2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۰)
(۳۴) خلیفہ عبدالملک بن مروان
یہ خلفاء بنو امیہ میں بڑے کروفر کا بادشاہ گزرا ہے۔ بہت زیادہ صاحبِ علم
1۔۔۔۔۔۔تہذیب التھدیب،ج۹،ص۱۰۱۔تذکرۃ الحفاظ،الہیثم بن جمیل،ج۱،ص۲۶۶ 2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین،کتاب ذکرالموت،الباب الخامس،ج۵،ص۲۳۳