Brailvi Books

آئینہ عبرت
48 - 133
بہت سے محدثین حاضر تھے۔ لوگوں کو خیال آیا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کرنی چاہیے مگر حضرت ابوزرعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی جلالتِ شان کے آگے کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ آخر سب لوگوں نے سوچ کر یہ راہ نکالی کہ تلقین والی حدیث کا تذکرہ کرنا چاہیے تاکہ ان کو کلمہ یاد آجائے چنانچہ محمد بن مسلم محدث رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ابتدا کی اور یہ سنَد پڑھی کہ
حدثنا الضحاک بن مخلدٍ عن عبدالحمید بن جعفر
اتنا پڑھ کر رعب سے ان کی زبان بند ہوگئی اور اس پر ابوزرعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جانکنی کے عالم میں روایت شروع کردی کہ
حدثنا بُنْدارحدثنا عبدالحمید بن جعفر عن صالح عن کثیر بن مرۃ عن معاذ بن جبل قال قال رسول اللہ مَنْ کَانَ اٰخِرُ کَلَامِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ
اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی، پوری حدیث یوں ہے کہ
مَنْ کَانَ اٰخِرُ کَلَامِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ
یعنی جس کی زبان سے مرتے وقت آخری کلام
لَا اِلٰہَ اِلَا اللہُ
نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔۲۶۴ھ؁ میں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہوا۔(1)(تذکرۃ الحفاظ وتہذیب التہذیب وغیرہ)
 (۳۲ ) حضرت ہیثم بن جمیل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
    یہ حدیث میں حضرت امام مالک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ محدثین کرام کے نامور شاگردوں میں ہیں نہایت متقی اور اعلیٰ درجے کے عابد و زاہد تھے۔ حضرت سفیان بن محمد مصیصی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ میں ہیثم بن جمیل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کے وقت حاضر تھا وہ سکرات موت میں تھے اور قبلہ رو لیٹے ہوئے تھے، لوگوں نے ان کو چادر اڑھا دی تھی اور دم نکلنے کے انتظار میں تھے اسی حالت میں ان کی باندی نے ان کا
1۔۔۔۔۔۔تاریخ بغداد،عبیداللہ بن عبدالکریم،ج۱۰،ص۳۳۳بتغیر
Flag Counter