بہزبن حکیم محدث رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ میں بھی ان کی نعش مبارک کو مسجد سے ان کے گھر تک اٹھا کر لے جانے والوں میں شامل تھا۔ یہ واقعہ ۹۲ ھ میں ہوا۔ (2)
(احیاء العلوم ج۴ص۱۶۱واکمال و ترمذی شریف)
(۳۱) حضرت ابوزرعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ علِم حدیث کے مشہور امام اور اس فن میں حضرت امام بخاری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ہم مرتبہ مانے گئے ہیں ایک بار حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ میرے علم میں صحیح حدیثوں کی تعداد سات لاکھ ہے اور ابوزرعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جوانی ہی میں چھ لاکھ حدیثوں کے حافظ ہوچکے تھے۔(3)
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے مرض الموت میں سکرات موت اور جانکنی کے عالم میں
1۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کنزالایمان:پھرجب صور پھونکا جائے گا تووہ دن کرّا (سخت) دن ہے۔( پ ۲۹،المدثر:۸،۹)
2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین ، کتاب الخوف والرجاء،بیان احوال الصحابۃ والتابعین وسلف الصالحین،ج۴،ص۲۲۹۔حلیۃ الأولیاء، زرارۃ بن اوفیٰ،الحدیث:۲۲۷۰،ج۲، ص۲۹۳۔ الطبقات الکبری لابن سعد، زرارۃ بن اوفیٰ، ج۷،ص۱۱۰
3۔۔۔۔۔۔تاریخ بغداد،عبیداللہ بن عبدالکریم،ج۱۰،ص۳۳۱