مجھے اپنا گناہ بڑا معلوم ہوا لیکن جب میں نے
تیرے عفو سے اس کا موازنہ کیا تو تیرا عفو بڑا نکلا
فما زلت ذا عفو عن الذ نب لم تزل
تجود وتعفومنۃ وتکرما
تونے ہمیشہ گناہوں کو معاف کیا اور ہمیشہ
انعام واکرامات کئے اور معافی سے نوازتا رہا
مذکورہ بالا تقریرواشعار کے بعد ہی آپ کا انتقالِ پُر ملال ہوگیا۔(1)
(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۱)
(۲۸) حضرت ابوبکر بن عیاش رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
بڑے پائے کے محدث اور بے حد مشہور و ممتاز عابد و زاہد تھے اور بادشاہِ وقت اور اس کے گورنروں کو نصیحت کرنے میں بڑے بے خوف اور نڈر تھے اپنی وفات کے وقت اپنی لڑکی اور لڑکے سے فرمایا کہ میری پیاری بیٹی ! تم کیوں روتی ہو؟ کیا تم ڈرتی ہو کہ تمہارے باپ کو عذاب دیا جائے گا؟ اے نورِ نظر ! تم کو کیا خبر میں نے اپنے مکان کے اس ایک کونے میں ۲۴ ہزار مرتبہ قرآن مجید ختم کیا ہے۔ بیٹا ابراہیم ! تمہارے باپ نے زندگی بھر کوئی بے حیائی کا کام نہیں کیا ہے اور تیس برس سے مسلسل میں ایک ختم روزانہ قرآن مجید پڑھتا رہا ہوں۔ خبردار ! اس بالا خانے پر ہر گز تم گناہ کا کام مت کرنا
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت، الباب الخامس،بیان أقاویل جماعۃ من خصوص الصالحین من التابعین،ج۵،ص۲۳۴