| آئینہ عبرت |
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بِلبلا کر رونے لگے۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ اس وقت آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے رونے کی کیا وجہ ہے؟ تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے آنسو پونچھتے ہوئے بھرائی آواز میں فرمایا کہ میں اپنے کسی گناہ یااور کسی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں بلکہ صرف اس خیال سے مجھے رونا آگیا کہ میں نے بہت سی باتوں کو معمولی اور حقیر سمجھا تھا حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی باتیں تھیں۔ تو میں ڈررہا ہوں کہ کہیں ان باتوں پر میری پکڑ نہ ہوجائے۔ اتنا کہا اور فوراً ہی ان کی وفات ہوگئی۔(1)(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)
(۲۷) حضرت امام شافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی علمی جلالت و شان محتاج بیان نہیں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے فضائل و کمالات کے ذکر جمیل سے تاریخ کے صفحات مالا مال ہیں۔مفصل احوال ہماری کتاب '' اولیاء رجال الحدیث '' میں پڑھيں۔ امام مزنی کا بیان ہے کہ میں حضرت امام شافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے مرض الموت میں ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوا اور میں نے دریافت کیا کہ اے ابوعبداللہ!رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ آپ کا کیا حال ہے؟ تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا کہ اے مزنی! سنو میرا اس وقت یہ حال ہے کہ'' میں دنیا سے جارہا ہوں اور دوستوں سے جدا ہورہا ہوں اور اپنے برے اعمال سے ملاقات کرنے والا ہوں اور موت کا پیالہ پینے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونے والا ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میر ی روح جنت میں جانے والی ہے تاکہ میں اس کو مبارکباددوں یا جہنم میں جانے والی ہے تاکہ میں اس کی تعزیت کروں۔''پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ان اشعار کو
1احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت، الباب الخامس،بیان أقاویل جماعۃ من خصوص الصالحین من التابعین،ج۵، ص۲۳۱