زمین پر رکھ دو اور میرے سر پر خاک ڈال دو۔ تو '' نصر'' رو پڑا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تم رو کیوں رہے ہو تو ''نصر'' نے عرض کیا کہ اے میرے مولیٰ! میں نے تمام عمر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو نازو نعمت میں زندگی بسر کرتے ہوئے دیکھا ہے اور موت کے وقت آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ایک مسکین پردیسی کی طرح مرنے کا خیال رکھتے ہیں تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا کہ میں نے خدا عزوجل سے یہ دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! عزوجل تو مجھے اغنیاء کی زندگی اور فقراء کی موت عطا فرما۔ پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تم صرف ایک مرتبہ مجھ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کرنااور پھر جب تک میں کوئی دوسری بات نہ بولوں دوبارہ مجھے تلقین نہ کرنا۔
چنانچہ نصر نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ہدایت پر عمل کیا۔ پھر حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے آنکھ کھولی اور ہنسے اور یہ آیت تلاوت کی: