Brailvi Books

آئینہ عبرت
43 - 133
زمین پر رکھ دو اور میرے سر پر خاک ڈال دو۔ تو '' نصر'' رو پڑا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تم رو کیوں رہے ہو تو ''نصر'' نے عرض کیا کہ اے میرے مولیٰ! میں نے تمام عمر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو نازو نعمت میں زندگی بسر کرتے ہوئے دیکھا ہے اور موت کے وقت آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ایک مسکین پردیسی کی طرح مرنے کا خیال رکھتے ہیں تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا کہ میں نے خدا عزوجل سے یہ دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! عزوجل تو مجھے اغنیاء کی زندگی اور فقراء کی موت عطا فرما۔ پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تم صرف ایک مرتبہ مجھ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کرنااور پھر جب تک میں کوئی دوسری بات نہ بولوں دوبارہ مجھے تلقین نہ کرنا۔

     چنانچہ نصر نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ہدایت پر عمل کیا۔ پھر حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے آنکھ کھولی اور ہنسے اور یہ آیت تلاوت کی:
لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوۡنَ ﴿۶۱﴾  ـ1ـ
یعنی ان جیسی نعمتوں کےليے عمل کرنے والوں کو عمل کرناچاہيے

پھر ایک دم ان کا طائرِ روح عالم بالا کو پرواز کر گیا۔(2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)
(۲۶) حضرت محمد بن منکدر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
     آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بڑے بڑے بلند پایہ محدثین کے شاگرد اور مشہور ائمۂ حدیث کے مقتدی اور استاذ ہیں۔ عبادت کی کثرت اور زہدوتقویٰ میں بھی آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنے زمانے کے بہت مشہور و ممتاز عابد و زاہد ہیں۔ بوقت وفات جانکنی کے عالم میں
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان: ایسی ہی بات کے لئے کامیوں کوکام کرناچاہیے۔(پ۲۳،الصّٰفّٰت:۶۱)

2۔۔۔۔۔۔اتحاف السادۃ المتقین،کتاب ذکر الموت، الباب الخامس،بیان أقاویل جماعۃ من خصوص الصالحین من التابعین،ج۱۴،ص۲۱۴۔۲۱۶
Flag Counter