| آئینہ عبرت |
فرمائی کہ میرے مال میں سے چار لاکھ درہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور کوفہ اوربغداد کے محتاجوں کو دے دیئے جائيں۔(شذرات الذہب لابن عمادوسیرۃ النعمان وغیرہ)
( ۲۴) حضرت ابراہیم نخعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
یہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے دادا استاذ اور کوفہ کے استاذ الفقہاء ہیں۔عبادت، ریاضت اور خوفِ الٰہی عزوجل میں بھی ان کا مقام بہت بلند ہے۔ یہ اپنی وفات کے وقت رونے لگے تو کسی نے رونے کا سبب پوچھا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے قاصد کا انتظارکررہا ہوں کہ وہ مجھے جنت کی خوشخبری سناتا ہے یا جہنم کی وعیدسناتا ہے۔(1)
یہ کلمات زبان مبارک سے نکلے اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہوگیا۔
(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)(۲۵)حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بہت ہی عظیم الشان محدث اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بہت ہی محبوب اور محب شاگرد رشید ہیں۔ عبادت و ریاضت اور زہد و تقویٰ میں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا مرتبہ بہت اعلیٰ ہے ، ان کو ان کے والد کی میراث سے بہت کثیر دولت ملی تھی اور ہمیشہ بہت ناز و نعمت کی زندگی بسر کی تھی اور بہت ہی نفاست پسند امیر کبیر تھے۔
وقت وفات انہوں نے اپنے غلام '' نصر'' سے کہا کہ تم مجھے بستر سے اٹھا کر1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت، الباب الخامس،بیان أقاویل جماعۃ من خصوص الصالحین من التابعین،ج۵،ص۲۳۱