| آئینہ عبرت |
کردینا یا کسی عالِم سے ایک مسئلہ پوچھ کر اپنے اعمال کی اصلاح کرلینا ایک سو حج اور ایک سو جہاد سے بہتر سمجھتا ہوں۔ (1)
اس کے بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی آواز بالکل دھیمی پڑگئی اور پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہوگیا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا سال پیدائش ۹۳ھ اور وفات کا سال ۱۷۹ھ ہے اور قبر شریف جنۃ البقیع مدینہ منورہ میں ہے۔(2)
(اکمال وطبقات شعرانی و بستان المحدثین) آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ حضرت ابوحنیفہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے جلیل القدر شاگرد اور خلیفہ ہارون الرشید عباسی کی حکومت کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) رہے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے فضائل و مناقب بہت زیادہ ہیں۔ عین وفات کے وقت آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے گئے کہ کاش!میں اپنی اسی غریبی کی حالت میں مرتا جو شروع میں میری حالت تھی اور میں قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کا عہدہ قبول نہ کرتا۔ الٰہی! عزوجل تو خوب جانتا ہے کہ میں نے کبھی جان بوجھ کر کوئی حرام کام نہیں کیا اور نہ کبھی کوئی درہم حرام کاکھایا۔(3)
عین وفات کے وقت یہ کہہ کر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی وفات ہوگئی۔ اس کے بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی آواز نہ سنی گئی۔ وفات سے پہلے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ وصیت1۔۔۔۔۔۔بستان المحدثین،ص۳۷،۳۹ 2۔۔۔۔۔۔تذکرۃالحفاظ،مالک بن انس،ج۱،ص۱۵۷۔الطبقات الکبری للشعرانی،الامام مالک بن انس،ج۱،ص۷۶ 3۔۔۔۔۔۔تاریخ بغداد،ذکرمن اسمہ یعقوب،ج۱۴،ص۲۵۴۔۲۵۶
(۲۳) حضرت امام ابویوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ