Brailvi Books

آئینہ عبرت
40 - 133
علیہ نے فرمایا کہ میں کچھ سبز پوش لوگوں کود یکھ رہا ہوں جو نہ انسان ہیں نہ جن، یہ کہا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ (1)(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۸وص۴۰۹)

    اور عبید بن حسان کہتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیزرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کا وقت بالکل ہی قریب آن پہنچا تو انہوں نے ہر شخص کو گھر میں سے نکل جانے کا حکم دیا تو مسلمہ اور ان کی بیوی فاطمہ دروازے پر بیٹھ گئے تو انہوں نے سنا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بلند آواز سے کہہ رہے ہیں کہ مرحبا۔ خوش آمدید ہے ان چہروں کے لیے جو نہ آدمی ہیں نہ جن پھر یہ آیت پڑھی:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ  نَجْعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ؕ وَالْعَاقِبَۃُ  لِلْمُتَّقِیۡنَ  ـ2ـ
پھر لوگوں نے گھر میں داخل ہو کر دیکھا تو  آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وفات پاچکے تھے۔ (3)(تاریخ الخلفاء ص۱۶۶)
حضرت امام مالک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بوقتِ وفات اپنے شاگرد خاص یحیی بن یحیی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ سنو !
الحمد للہ الذی اضحک وابکی وامات واحیٰی
یعنی اس خداعزوجل کے لیے حمد ہے جس نے ہمیں کبھی خوشی دے کر ہنسایا اور کبھی غم دےٖ کر رلایا۔ ہم اسی کے حکم سے زندہ رہے اور اسی کے حکم پر جان قربان کرتے ہیں۔یاد رکھو کہ میں کسی مسلمان کو شریعت کا ایک مسئلہ بتا کر اس کے اعمال کی اصلاح
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ، الباب الخامس، فی کلام المحتضرین من الخلفاء...الخ،ج۵،ص۲۳۰۔۲۳۱

2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اورنہ فساد اورعاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔(پ۲۰،القصص:۸۳)

3۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء ، الموضوع عہد بنی امیۃ ، عمر بن عبدالعزیز،ص۱۹۶
Flag Counter