Brailvi Books

آئینہ عبرت
39 - 133
( ۲۱) حضرت عمربن عبدالعزیز رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی اہل علم و عمل بزرگ تابعی اور بنوامیہ کے خلفاء کی فہرست میں ''خلیفۂ عادل '' کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ روزانہ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! عزوجل میری موت کو مجھ پر آسان کردے ۔چنانچہ ان کی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک کا بیان ہے کہ ان کی وفات کے وقت میں ان کے خیمہ سے نکل کر مکان میں بیٹھ گئی تو میں نے ان کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا کہ
 تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ  نَجْعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ؕ وَالْعَاقِبَۃُ  لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۸۳﴾
یہ آخرت کا گھر ہم ان کے ليے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اور آخرت کی بھلائی پرہیز گاروں کے ليے ہے۔   (پ20 ،القصص آیت83)
اس کے بعد وہ بالکل ہی پرسکون ہوگئے، نہ کچھ بولے، نہ کوئی حرکت کی۔ تو میں نے لونڈی سے کہا کہ دیکھ تو خلیفہ کا کیا حال ہے؟ وہ دوڑ کر گئی تو  آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وفات پاچکے تھے اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ عین وفات کے وقت آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ مجھے بٹھادو جب لوگوں نے انہیں بٹھایا تو بیٹھ کر انہوں نے یہ کہا کہ یااللہ! عزوجل تو نے مجھے کچھ باتوں کا حکم فرمایا تو میں نے کوتاہی کی اور تو نے مجھے کچھ باتوں سے منع فرمایا تو میں نے نافرمانی کی۔ تین مرتبہ یہی کہا پھر کلمہ طیبہ پڑھا اور نظر جما کر دیکھا ۔تو لوگوں نے کہا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کیا دیکھ رہے ہیں؟ تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان: یہ آخرت کاگھرہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اورنہ فساداورعاقبت پرہیز گاروں ہی کی ہے۔(پ۲۰،القصص:۸۳)
Flag Counter