پڑ ھا اور یہ دعا مانگی کہ '' یااللہ! عزوجل میرے قتل کے بعد حجاج کو کسی مسلمان پر قابو نہ دے۔''
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ دعا مقبول ہوگئی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد صرف پندرہ رات حجاج زندہ رہا اور کسی مسلمان کو قتل نہ کرسکا۔ اس کے پیٹ میں کینسر ہوگیا تھا۔طبیب بدبودار گوشت کی بوٹی کو دھاگے میں باندھ کر اس کے حلق میں ڈالتا تھا اور وہ اس کو گھونٹ جاتا تھا۔ پھر اس کو نکالتا تھا تو وہ بوٹی خون میں لپٹی ہوئی نکلتی تھی اور ان پندرہ راتوں میں حجاج کبھی سو نہیں سکاکیونکہ آنکھ لگتے ہی وہ خواب دیکھتا کہ حضرت سعید بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹ رہے ہیں، بس آنکھ کھل جاتی ۔یہ بھی منقول ہے کہ قتل کے بعد حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدن سے اس قدر خو ن نکلا کہ حجاج اور حاضرین حیران رہ گئے، جب طبیب سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ قتل ہونے والوں کا خون خوف سے سوکھ جاتا ہے، مگر حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ بالکل بے خوف تھے اس لیے ان کا خون بالکل خشک نہیں ہوا اور اس قدر زیادہ خون نکلا کہ سارا دربار خون سے بھر گیا۔(2)
(اکمال فی اسماء الرجال ص۵۹۸وطبقات شعرانی وتہذیب التہذیب)