Brailvi Books

آئینہ عبرت
37 - 133
 کے ظالم گورنر حجاج بن یوسف ثقفی کو اس کی خلافِ شرع باتوں پر روک ٹوک کرتے رہتے تھے اس لیے اس ظالم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کرادیا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ بڑا ہی عجیب وغریب ہے، حجاج نے پوچھا کہ سعید بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ ! بولو میں کس طریقے سے تمہیں قتل کروں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جس طرح تو مجھے قتل کریگا قیامت کے دن اسی طریقے سے میں تجھے قتل کروں گا، حجاج نے کہا کہ تم مجھ سے معافی مانگ لو میں تمہیں چھوڑ دوں گا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں خدا عزوجل کے سوا کسی دوسرے سے معافی نہیں مانگ سکتا، حجاج نے جھلا کر کہا:اے جلاد! ان کو قتل کردے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر ہنسنے لگے حجاج نے تعجب سے پوچھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت کس بات پر ہنس پڑے؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدا عزوجل کے روبرو تمہاری جرات پر مجھے تعجب ہوا اور ہنسی آگئی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلاد کے سامنے قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوگئے اور
اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾   ـ1ـ
پڑھنے لگے ۔ حجاج نے کہا کہ اے جلاد ! ان کامنہ قبلہ سے پھیردے ۔ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھا:
فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ ؕ  ـ2ـ
حجاج نے کہاکہ اے جلاد!ان کو منہ کے بل زمین پر لٹا کر قتل کرڈالو۔ جب جلاد نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منہ کے بل بحالت سجدہ لٹایا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
مِنْہَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُكُمْ وَ مِنْہَا نُخْرِجُكُمْ تَارَۃً
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:میں  نے اپنامنہ اس کی طرف کیاجس نے آسمان وزمین بنائے ایک اسی کاہوکر اور میں مشرکوں میں نہیں۔(پ۷،الانعام:۷۹)

2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:توتم جدھرمنہ کرو اد ھر و جہ اللہ (خداکی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے۔ (پ۱،البقرۃ:۱۱۵)
Flag Counter