Brailvi Books

آئینہ عبرت
36 - 133
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم خیبر میں فوج لے کر داخل ہوئے تو یہ بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کس دین کی دعوت دیتے ہیں؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش فرمائی ، تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر میں مسلمان ہوجاؤں تومجھے خداوند تعالیٰ کی طرف سے کیا اجرو ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ'' تم کو جنت اور اس کی نعمتیں ملیں گی۔'' انہوں نے فوراً ہی کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعدیہ خوش نصیب ہتھیار پہن کر مجاہد ین اسلام کی صف میں کھڑے ہوگئے اور انتہائی جوش و خروش کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبر ملی تو فرمایا کہ'' اس شخص نے بہت کم عمل کیا اور بہت زیادہ اجر دیا گیا۔''

    پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کی لاش کو خیمہ میں لانے کا حکم دیا، اور ان کی لاش کے سرہانے کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ بشارت سنائی کہ ''اللہ تعالیٰ نے اس کے کالے چہرے کو حسین بنادیا اور اس کے بدن کو خوشبو دار بنادیا اور دو حوریں اس کو جنت میں ملیں۔ اس شخص نے ایمان اور جہاد کے سوا کوئی دوسرا عمل خیر نہیں کیا نہ ایک وقت کی نماز پڑھی ، نہ ایک روزہ رکھا نہ حج و زکوۃ کا موقع پایا مگر ایمان و جہاد کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنا بلند مرتبہ عطا فرمایا۔''(1)(مدارج النبوۃج۲ص۲۴۰)
(۲۰) حضرت سعید بن جبیر تا بعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
   آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی جلیل القدر تابعی ہیں بلکہ بعض محدثین نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیرالتابعین( تمام تابعین میں بہترین )لکھا ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بصرہ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم، باب ششم،غزوہ خیبر،ج۲،ص۲۳۹
Flag Counter