غزوہ تبوک ۹ ھ میں حضرت ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا نہ کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی نہ وفات ہوئی۔ حضرت ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک غریب مہاجر تھے اور اصحاب صفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے تھے۔ یہ غزوہ تبوک میں شامل ہوئے اور ان کو بخار آگیا۔ بوقت وفات ان کے پاس حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے بڑی حسرت سے یہ کہا کہ یارسول اللہ!عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرا مقصد شہادت ہی ہے اور حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمادی ہے کہ'' اے اللہ! عزوجل میں نے اس کے خون کو کفار پر حرام کردیا ہے'' تو کیا میں شہادت سے محروم رہوں گا؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ'' جب تم جہاد کے لیے نکلے ہو تو اگر بخار میں بھی مرو گے جب بھی تم شہید ہی ہوگے۔''
اس کے بعد ہی بخار میں حضرت ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوگیا تو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے ان کی لاش کو لحد میں سلایا اور خود ہی قبر کو کچی اینٹوں سے بند فرمایا اور پھر یہ دعا مانگی کہ '' اے اللہ!عزوجل میں ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا ۔''(1)
(مدارج النبوۃج۲ص۳۵۰وص۳۵۱)
نوٹ : حضرت ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مفصل حال ہماری کتاب سیرۃ المصطفیٰ میں پڑھ لیجئے۔