Brailvi Books

آئینہ عبرت
34 - 133
چچا جان ! خدا عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتل کومیرے ہاتھ سے ہلاک کردیا ہے پھرحضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے چچا حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زانو سے وہ تیر کھینچ کر نکالا تو وہ چونکہ زہر میں بجھا ہوا تھا اس لیے زخم سے بجائے خون کے پانی بہنے لگا اور وہ نڈھا ل ہونے لگے پھر انہوں نے اپنے بھتیجے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی جگہ اپنی فوج کا افسر بنایا اور یہ وصیت فرمائی کہ تم رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر میرا سلام عرض کرنا اور میرے لیے دعا کی درخواست کرنا۔ یہ وصیت کی اور اس کے بعد ہی فوراً ان کی وفات ہوگئی۔ 

    حضرت ابو موسیٰ اشعر ی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جب جنگ سے فارغ ہو کر میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور اپنے مرحوم چچا کا سلام اور پیغام عرض کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وُضو فرمایاپھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اونچا اٹھایا کہ میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھ لی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس طرح دعا مانگی کہ یا اللہ! عزوجل توابوعامررضی اللہ تعالیٰ عنہ کوقیامت کے دن بہت سے انسانوں سے زیادہ بلندمرتبہ بنادے۔

    حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا یہ کرم دیکھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ!عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے بھی دعا فرما دیجئے۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی کہ یا اللہ! عزوجل تو عبداللہ بن قیس (ابوموسی اشعر ی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے گناہوں کو بخش دے اور اس کو قیامت کے دن عزت والی جگہ میں داخل فرما۔(1)(بخاری ج۲ص۶۱۹غزوہ اوطاس)
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ أوطاس،الحدیث:۴۳۲۳، ج۳،ص۱۱۳
Flag Counter